اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی سعادت مندی کی فکر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ،اٰمین۔
وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیۡنَا الْحِسَابُ ﴿۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اگر ہمیں تمہیں دکھا دیں کوئی وعدہ جو انہیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی اپنے پاس بلائیں تو بہر حال تم پر تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا ذمہ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے حبیب!) اگر ہم تمہیں کوئی وعدہ دکھا د یںجو ہم ان سے کررہے ہیں یاہم تمہیں پہلے ہی وفات دیدیں تو آپ پر توبہرحال تبلیغ کرنا لازم ہے اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔
{وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ:اور اگر ہمیں تمہیں دکھا د یں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم کافروں کوعذاب دینے کا جو وعدہ کر رہے ہیں ،اس میں سے کوئی وعدہ آپ کو آپ کی زندگی میں ہی دکھا دیں یا وہ وعدہ دکھانے سے پہلے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وفات دے دیں تو دونوں صورتیں ممکن ہیں لیکن آپ کی ذمہ داری بہرحال تبلیغ فرمانا ہے اور صرف یہی آپ کی ذمہ داری ہے ، بقیہ قیامت کے دن ان کا حساب لینا اور ان کے اعمال کی جزا دینا یہ ہمارے ذمے ہے لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافروں کے اِعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں اور ان کے عذاب کی جلدی نہ کریں۔ (1)
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرْضَ نَنۡقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا ؕ وَاللہُ یَحْکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ ؕ وَہُوَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ ﴿۴۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہم ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں اور اللّٰہ حکم فرماتا ہے اس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳/۷۱، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۵۶۰، ملتقطاً۔