Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
131 - 601
کی اتنی کثیر تعداد کے باوجود ان کی نبوت میں کوئی فرق نہیں پڑا تو حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چند اَزواجِ مُطہرات  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی وجہ سے ان کی نبوت میں کیسے فرق آ سکتا ہے۔
	تیسرا اعتراض: اگر یہ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو پھر ہم ان سے جو معجزہ بھی طلب کریں تو وہ انہیں دکھانا چاہئے تھا، لہٰذا جب معاملہ ا س کے برخلاف نظر آیا تو ہم نے جان لیا کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول نہیں۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ دلیل دینے اور عذر زائل کرنے کے لئے ایک معجزہ دکھا دینا ہی کافی ہے، ایک یا ایک سے زیادہ معجزات دکھانا اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر موقوف ہے، اگر وہ چاہے تو زیادہ معجزات ظاہر فرما دے اور چاہے تو ظاہر نہ فرمائے لہٰذا س پر کسی کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں۔
	چوتھا اعتراض: حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کفار کواس بات سے ڈرایا تھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے کفار پرعذاب نازل ہو گا اور مسلمانوں کی مدد کی جائے گی، لیکن جب وہ عذاب مُؤخر ہوا اورا س کی کوئی نشانی کفار کو نظر نہ آئی تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت میں طعن کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر یہ سچے نبی ہوتے تو ان کا جھوٹ ظاہر نہ ہوتا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ کفار پر عذاب نازل ہونا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے مقبول بندوں کے لئے فتح و نصرت کا ظاہر ہونا اللّٰہ تعالیٰ نے مُعَیَّن اوقات کے ساتھ خاص فرما دیا ہے اور ہر نئے ہونے والے کام کا ایک وقت معین ہے لہٰذا مخصوص وقت آنے سے پہلے وہ نیا کا م ظاہر نہ ہو گا۔ جب اصل بات یہ ہے تو وعیدوں کے مؤخر ہونے کی وجہ سے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا کِذب کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟ (1)
یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ ۚۖ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ ﴿۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:اللّٰہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللّٰہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور برقرار رکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔ 
{یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ:اللّٰہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے۔} حضرت سعید بن جبیر اور حضرت قتادہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۸، ۷/۴۹-۵۰، صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳/۱۰۰۹-۱۰۱۰، ملتقطاً۔