Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
123 - 601
ترجمۂکنزالایمان: انہیں دنیا کے جیتے عذاب ہوگا اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت ہے اور انہیں اللّٰہ سے بچانے والا کوئی نہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کیلئے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے اور آخرت کا عذاب یقینا زیادہ سخت ہے اور انہیںاللّٰہ سے بچانے والا کوئی نہیں۔ 
{لَہُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا:ان کیلئے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے۔} یعنی ان کیلئے دنیا کی زندگی میں قتل اور قید وغیرہ کا عذاب ہے اور آخرت کا عذاب یقینا دنیا کے عذاب کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے اور انہیں اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔
جہنم کے عذاب کی سختیاں:
	اس آیتِ مبارکہ میں بیان کی گئی وعید اگرچہ کافروں کے بارے میں ہے لیکن اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑی عبرت ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت سے انتہائی دور اور اس کی نافرمانی میں بہت مصروف ہیں، اگر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں جہنم میں ڈال دیا تو ان کا جوحال ہو گا اس کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے، مزید عبرت حاصل کرنے کے لئے عذابِ جہنم کی سختیوں کے بیان پر مشتمل امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا یہ کلام بغور پڑھئے، چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’اے اپنے نفس سے غافل اور اس فانی اور مٹ جانے والی دنیا پر دھوکہ کھانے والے شخص! اُس چیز کی فکر نہ کر جسے چھوڑ کر جانے والا ہے بلکہ اپنے فکر کی لگام کو اس کی طرف موڑ دے جو تیری منزل ہے ، کیونکہ تجھے بتایا گیا کہ سب لوگوں کو جہنم پر سے گزرنا پڑے گا، کہا گیا ہے:
’’وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں سے ہرایک دوزخ پر سے گزرنے والاہے۔یہ تمہارے رب کے ذمہ پر حتمی فیصلہ کی ہوئی بات ہے۔ پھر ہم ڈر نے والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…مریم:۷۱،۷۲۔