{وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ: اور نہ میں اس کی عبادت کروں گا جسے تم نے پوجا ۔} اس سے چند باتیں معلوم ہوئیں : (1) انسان دُنْیَوی معاملات میں نرم ہو، مگر دین میں انتہائی مضبوط ہو،تا کہ کفار اس سے مایوس ہوں ۔(2) حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو اپنے مستقبل کی خبر تھی کہ وہ کبھی کفر ،شرک اور فسق نہیں کرسکتے۔(3) مسلمان کو چاہیے کہ اپنے بارے میں کفار کو مایوس کر دے کہ وہ اسے دین سے پھیر سکیں ۔
{وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ: اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں ۔} اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو لوگوں کے اچھے برے خاتمہ کی خبر دی ہے کہ کون کفر پر مرے گا اور کسے ایمان پر موت آئے گی کیونکہ یہاں کلام ان کفار سے ہو رہا ہے جو کفر پر مرنے والے تھے۔
{لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ: تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔} یعنی تمہارے لئے تمہاراکفر اور میرے لئے میری توحید اور میرا اخلاص ہے۔اس کلام سے مقصود کفار کو ڈرانا ہے نہ کہ ان کے کفر سے راضی ہونا ۔( خازن، الکافرون، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۴۱۸)