Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
827 - 881
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ(۱) اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ(۲) وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ(۳) تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍﭪ(۴)فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں  کاکیا حال کیا ۔کیا ان کا داؤں  تباہی میں  نہ ڈالا۔اور ان پر پرندوں  کی ٹکڑیاں  بھیجیں  ۔کہ انہیں  کنکر کے پتھروں  سے مارتے ۔تو انہیں  کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا؟کیا اس نے ان کے مکرو فریب کو تباہی میں  نہ ڈالا۔اور ان پر فوج در فوج پرندے بھیجے۔جو انہیں  کنکر کے پتھروں  سے مارتے تھے ۔تو انہیں  جانوروں  کے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا۔
{اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ: کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں  کا کیا حال کیا؟}  اس سورت میں  جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یمن اور حبشہ کے بادشاہ ابرہہ نے جب حج کے موسم میں  لوگوں  کو بیتُ اللّٰہ کا حج کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا تو اُس نے اِس غرض سے صنعاء میں  ایک کنیسہ (عبادت خانہ) بنایا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ جانے کی بجائے یہیں  آئیں  اور اسی کنیسہ کا طواف کریں ۔