Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
822 - 881
اعمال کرنے والے مسلمانوں  کے علاوہ ہر انسان خسارے میں  ہے اور اس سورت میں  اس شخص کی ایک مثال بیان کی گئی ہے جو آخرت میں  نقصان اٹھانے والا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﹰۙ (۱)
ترجمۂکنزالایمان:  خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں  کے منہ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں  کے منہ پر عیب نکالے، پیٹھ پیچھے برائی کرے۔
{وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ: اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں  کے منہ پر عیب نکالے، پیٹھ پیچھے برائی کرے۔}  یہ آیتیں  ان کفار کے بارے میں  نازل ہوئیں  جوسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  پر اعتراضات کرتے تھے اور ان حضرات کی غیبت کرتے تھے،جیسے اَخنس بن شُریق، اُمیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغیرہ اور اس آیت میں  مذکور حکم ہر غیبت کرنے والے کے لئے عام ہے۔(جلالین، الہمزۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۰۶، مدارک، الہمزۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۷۳، ملتقطاً)
غیبت اور عیب جوئی کی مذمت:
	ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان