کام آئیں گے۔
سورۂ زِلزال کے ساتھ مناسبت:
سورۂ عادِیات کی اپنے سے ما قبل سورت ’’زِلزال‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ زِلزال کے آخر میں نیکی اور گناہ کی جزا بیان کی گئی اور اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے،دنیا کو آخر ت پر ترجیح دینے اور آخرت میں لئے جانے والے حساب کی تیاری نہ کرنے پر انسان کی سرزَنِش کی گئی ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ(۱) فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی ۔پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مارکر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان گھوڑوں کی قسم جوہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں ۔پھر سم مارکرپتھروں سے چنگاریاں نکالنے والوں کی ۔
{وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا: ان گھوڑوں کی قسم جوہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں ۔} اس آیت میں جن گھوڑوں کی قسم ارشاد فرمائی گئی ان سے مراد غازیوں کے گھوڑے ہیں جو جہاد میں دوڑتے ہیں تو ان کے سینوں سے آوازیں نکلتی ہیں ۔( ابو سعود، العادیات، تحت الآیۃ: ۱، ۵/۸۹۶)
آیت’’ وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کیا پیارے نکتے بیان فرمائے کہ آیت سے معلوم ہوا ،