Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
787 - 881
سورۂ زِلزال
سورۂ زِلزال کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂ زِلزال مکیہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ مدنیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الزّلزلۃ، ۴/۴۰۰) 
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع، 8آیتیں  ہیں ۔
’’زِلزال ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	زِلزال کا معنی ہے ہلا دینا،اور اس سورت کی پہلی آیت میں  یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ زِلزال ‘‘کہتے ہیں ۔	
سورۂ زِلزال کے فضائل:
(1) … حضرت عبد اللّٰہ بن عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سورۂ ’’اِذَا زُلْزِلَتِ‘‘ آدھے قرآن کے برابر ہے اور سورۂ ’’قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ‘‘ تہائی قرآن کے برابر ہے ا ور سورۂ ’’ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ‘‘ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القران، باب ما جاء فی سورۃ الاخلاص و فی سورۃ اذا زلزلت، ۴/۴۰۹، الحدیث: ۲۹۰۳)
(2) …حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو سورۂ زلزال پڑھے تو یہ اس کے لئے نصف قرآن کے برابر ہو گی،جو سورۂ کافرون پڑھے تو یہ اس کے لئے چوتھائی قرآن کے برابر اور سورۂ اخلاص کا پڑھنا تہائی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کے برابر ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القران، باب ما جاء فی اذا زلزلت، ۴/۴۰۹، الحدیث: ۲۹۰۲)