’’ جس نے اس رات میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، ۱/۲۵، الحدیث: ۳۵)
اورحضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا توحضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک تمہارے پاس یہ مہینہ آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جوشخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ تمام نیکیوں سے محروم رہا اور محروم وہی رہے گا جس کی قسمت میں محرومی ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی فضل شہر رمضان، ۲/۲۹۸، الحدیث: ۱۶۴۴)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ یہ رات عبادت میں گزارے اور اس رات میں کثرت سے اِستغفار کرے، جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :،میں نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ
لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو ا س رات میں مَیں کیا کہوں ؟ارشاد فرمایا: تم کہو ’’اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘اے اللّٰہ!،بے شک تو معاف فرمانے والا،کرم کرنے والا ہے،تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۴-باب، ۵/۳۰۶، الحدیث: ۳۵۲۴)
نیزآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ کونسی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس رات میں یہ دعا بکثرت مانگوں گی’’اے اللّٰہ میں تجھ سے مغفرت اور عافیت کا سوال کرتی ہوں ۔( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعائ، الدعاء با العافیۃ، ۷/۲۷، الحدیث: ۸)
شبِ قدر سال میں ایک مرتبہ آتی ہے:
یاد رہے کہ سال بھر میں شبِ قدر ایک مرتبہ آتی ہے اور کثیر روایات سے ثابت ہے کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے اور اکثر اس کی بھی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک رمضان المبارک کی ستائیسویں رات شبِ قدر ہوتی ہے اور یہی حضرتِ امام اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے۔( مدارک، القدر، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۶۴)
شبِ قدر کو پوشیدہ رکھے جانے کی وجوہات:
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے شب ِقدر کو چند وجوہ کی بناء پر پوشیدہ