میں اَعُوْذُ بِاللّٰہ پڑھنے کے بعد بِسْمِ اللّٰہ پڑھنا تاکید کے ساتھ مستحب ہے،اگر تلاوت کرنے والا تلاوت کے درمیان میں کوئی دُنْیَوی کام کرے تو اعوذباللّٰہ اور بسم اللّٰہ پھر پڑھ لے اور اگر ا س نے دینی کام کیا مثلاً سلام یا اذان کا جواب دیا یا سُبْحَانَ اللّٰہ اور کلمۂ طیبہ وغیرہ اَذکار پڑھے تو اَعُوْذُ بِاللّٰہ پھر پڑھنا اس کے ذمے نہیں ۔( بہار شریعت، حصہ سوم، قرآن مجید پڑھنے کابیان، ۱/۵۵۰-۵۵۱، ملخصاً)
اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پڑھواور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے۔
{اِقْرَاْ : پڑھو۔} دوبارہ پڑھنے کا حکم تاکید کے لئے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوبارہ قراء ت کے حکم سے مراد یہ ہے کہ تبلیغ اور اُمت کی تعلیم کے لئے پڑھئے۔( خازن، العلق، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۳۹۳)
{وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ: اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ سب کریموں سے زیادہ کرم والا ہے ،وہ اپنے بندوں کو نعمتیں عطا کرتا اور ان کی نافرمانیوں پر حِلم فرماتا ہے،وہ اپنی نعمتوں کا انکار کرنے اور اپنے ساتھ کفر کرنے کے باوجود انہیں عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔( مدارک، العلق، تحت الآیۃ: ۳، ص۱۳۶۲)
الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: جس نے قلم سے لکھنا سکھایا ۔آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔