سے دوسال پہلے مسجد یں بنائیں ،ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں (اور اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے ) اپنے گھروں میں اُنہیں ٹھہراتے اور اپنے مالوں میں نصف کا انہیں شریک کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اُس مال کے بارے میں کوئی خواہش اور طلب نہیں پاتے جو ان مہاجرین کو دیا گیا اور وہ اپنے اَموال اور گھر ایثار کر کے مہاجرین کواپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود مال کی حاجت ہو اور جس کے نفس کو لالچ سے پاک کیا گیا تو وہی کامیاب ہیں ۔
نوٹ:بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت کا تعلق پچھلی آیات کے ساتھ ہے اوراس میں انصار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے لئے بھی اس مال کا حصہ بیان کیا گیا ہے جو بنو نضیر کے یہودیوں سے حاصل ہوا۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۹، ۹/۴۳۲، خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۲۴۸، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۲۲۵، ملتقطاً)
انصار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا بے مثل ایثار:
انصار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے مہاجر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ جس اَخُوَّت،محبت اور ایثار کا مظاہرہ کیا تاریخ میں ا س کی مثال ملنا انتہائی مشکل ہے ،یہاں ان کے ایثار کے تین واقعات ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں انصار نے عرض کی :ہمارے اور ہمارے (مہاجر )بھائیوں کے درمیان کھجور کے درخت تقسیم فرما دیجئے ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انکار فرما دیا،انصار نے مہاجرین سے کہا:آپ محنت کی ذمہ داری لے لیں اور ہم آپ کو پھلوں میں شریک کر لیتے ہیں ،مہاجرین نے کہا:ہمیں آپ کی بات منظور ہے۔( بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی المعاملۃ، ۲/۲۲۰، الحدیث: ۲۷۱۹)
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بحرَیْن میں جاگیریں بخشنے کے لئے انصار کو بلایا تو انہوں نے عرض کی :اگر آپ نے یہی کرنا ہے تو ہمارے قریشی بھائیوں کے لئے لکھ دیجئے حالانکہ وہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس نہ تھے ۔( بخاری، کتاب المساقاۃ، باب کتابۃ القطائع، ۲/۱۰۲، الحدیث: ۲۳۷۷)
(3)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں ایک