Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
665 - 881
ترجمۂکنزالایمان: جنہوں  نے شہروں  میں  سرکشی کی۔ پھر ان میں  بہت فساد پھیلایا۔تو ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا    بقوّت مارا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جنہوں  نے شہروں  میں  سرکشی کی۔ پھر ان میں  بہت فساد پھیلایا۔ تو ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا برسایا۔
{اَلَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ: جنہوں  نے شہروں  میں  سرکشی کی} اب اوپر بیان کردہ قومِ عاد،قومِ ثمود، فرعون کے بارے میں  فرمایا کہ انہوں  نے شہروں  میں  سرکشی کی اور مَعصِیَت و گمراہی میں  انتہا کو پہنچے اور عَبْدِیَّت کی حد سے گذر گئے کہ فرعون نے توبندگی کی حد سے گزر کر خدائی کا دعویٰ کردیا نیز انہوں  نے کفر ،قتل اور ظلم کے ذریعے زمین میں  فساد برپا کیا تو ان کا جوانجام ہوا وہ اگلی آیت میں  مذکور ہوا کہ ان پر اللّٰہ تعالیٰ نے عذاب کا کوڑا برسایا اور مختلف طرح کے عذابوں  میں  مبتلا کیا جنہوں نے انہیں  ہلاک کردیا ۔ 
اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارا رب یقینا دیکھ رہا ہے۔
{اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ: بیشک تمہارا رب یقینا دیکھ رہا ہے۔} اس آیت میں  گزشتہ قوموں  کا اَحوال ہوسکتا ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ تھے بلکہ ان کا ہر حال اللّٰہ تعالیٰ پرکھلا ہوا تھااور انہیں  ان کی حرکات کی وجہ سے ہی عذاب دیا گیا اور یونہی موجودہ اور آئندہ کے سارے لوگ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی نگہبانی میں  ہیں  کہ ان میں  سے کوئی اللّٰہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں  اور ہر ایک کا ہر عمل، ہر حال، ہر حرکت اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے ہے۔ 
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ