Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
655 - 881
سے فیض نہ لے تو اس سے سورج یا بادل کا نقصان نہیں  ہے۔ یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ آپ انہیں  جَبراً مسلمان نہ کریں  بلکہ اسلام کی تعلیمات پہنچا کر قبول کرنے یانہ کرنے کا اختیار ان پر چھوڑ دیں ۔ 
اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ(۲۳) فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ(۲۴) اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ(۲۵)ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں  جو منہ پھیرے اور کفر کرے ۔تو اسے اللّٰہ بڑا عذاب دے گا۔بیشک ہماری ہی طرف ان کا پھرناہے۔ پھر بیشک ہماری ہی طرف ان کا حساب ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں  جس نے منہ پھیرا اور کفر کیا۔ تو اسے اللّٰہ بہت بڑا عذاب دے گا۔ بیشک ہماری ہی طرف ان کا لوٹناہے۔ پھر بیشک ہم پر ہی ان کا حساب (لینا) ہے۔
{اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَ: ہاں  جس نے منہ پھیرا اور کفر کیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، انہیں  مسلمان کرکے چھوڑنا یا مجبور کرکے مسلمان بنانا آپ کی ذمہ داری نہیں  بلکہ پیغام پہنچانا آپ کی ذمہ داری تھی تو آپ کے سمجھانے اور نصیحت فرمانے کے بعد جو ایمان لانے سے منہ پھیرے اور کفر کرے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے آخرت میں  بڑا عذاب دے گا کہ اسے جہنم میں  داخل کرے گا کیونکہ مرنے کے بعد انہیں  ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے اور حشر کے میدان میں  ان کا حساب بھی ہم نے ہی لینا ہے۔
	یاد رہے کہ کفار کے لئے بہت سے عذاب ہیں : نَزع کے وقت، قبرمیں ، محشر میں  اور جہنم میں  ، ان سب میں  بڑا عذاب دوزخ کا ہے، باقی اس کے مقابلے میں  چھوٹے ہیں  کیونکہ دوزخ کا عذاب دائمی ہے، اس میں  سخت رسوائی بھی ہے، اس میں  ہر طرح کا عذاب ہے: کھانے، پینے ، رہنے سہنے، زہریلے جانور سب کا عذاب ، ان وجوہات سے اسے بڑا عذاب کہا گیا۔