Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
649 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: بہت سے چہرے اس دن چین سے ہوں  گے۔
{وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاعِمَةٌ: بہت سے چہرے اس دن چین سے ہوں  گے۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کے لئے وعیدیں  بیان کی گئیں  اور اب یہاں  سے ایمان والوں  کے اَحوال بیان کئے جا رہے ہیں  ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن بہت سے چہرے عیش و خوشی میں  اور نعمت و کرامت میں  ہوں  گے۔مراد یہ ہے کہ قیامت میں  پرہیز گار مومنین چین میں  ہوں  گے، نہ انہیں  سورج کی گرمی ستائے گی،نہ زمین کی تپش ، نہ انہیں  خوف ہو گانہ غم، نہ رب عَزَّوَجَلَّ کا عتاب ہو، نہ فرشتوں  کی لعن طعن، نہ قیامت کی گھبراہٹ ، کیونکہ یہ حضرات دنیا میں  خدا عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے بے چین رہے اور دنیا میں  خوفِ خدا کی بے چینی قیامت کے چین کا ذریعہ ہے۔
لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اپنی کوشش پر راضی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنی کوشش پر راضی ہوں  گے۔
{لِسَعْیِهَا رَاضِیَةٌ: اپنی کوشش پر راضی ہوں  گے۔} یعنی قیامت کے دن جب مسلمان اپنامرتبہ اور ثواب دیکھیں  گے تو وہ دنیا میں  کئے جانے والے اپنے نیک اعمال پر راضی اور خوش ہوں  گے۔( مدارک، الغاشیۃ، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۳۴۳) اور حقیقتاً نیکیوں  پر خوش ہونے کا وقت بھی قیامت ہی ہے کیونکہ اپنے انجام کی خبر نہیں ، لہٰذا جب محشرمیں  اعمال کی مقبولیت دیکھیں  گے تو خوش ہوں  گے یونہی مومنوں  کے نیک اعمال نہایت اچھی شکلوں  میں  ان کے ساتھ ہوں  گے، جن کو دیکھ کر انہیں  دلی شادمانی ہو گی۔
فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ(۱۰) لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ(۱۱) فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ(۱۲) فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ(۱۳)