بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ(۱۹) وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ مُّحِیْطٌۚ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ کافر جھٹلا نے میں ہیں ۔اور اللّٰہ ان کے پیچھے سے انھیں گھیرے ہوئے ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ کافر جھٹلا نے میں لگے ہوئے ہیں ۔اور اللّٰہ ان کے پیچھے سے انہیں گھیرے ہوئے ہے۔
{بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍ: بلکہ کافر جھٹلا نے میں لگے ہوئے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، کفار کا جرم صرف یہ ہی نہیں کہ انہوں نے سابقہ امتوں کے کفار کے حالات سن کر نصیحت حاصل نہ کی بلکہ وہ اِس کے ساتھ ساتھ اُسی طرح آپ کو اور قرآنِ پاک کو بھی جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں جس طرح ان سے پہلی امتوں نے اپنے رسولوں اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کو جھٹلایا حالانکہ قرآنِ پاک کا اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا معاملہ واضح ہے اور ا س کا یہ وصف روشن اور قطعی دلیلوں سے ظاہر ہے اور اللّٰہ تعالیٰ اِن کافروں کو جانتا ہے اور اِن کا کوئی عمل اللّٰہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں اور اللّٰہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اِن کفار پر بھی ویسا ہی عذاب نازل کر دے جیسا اِن سے پہلے کفار پر نازل کیا گیا تھا۔( ابو سعود، البروج، تحت الآیۃ: ۱۹-۲۰، ۵/۸۵۶، خازن، البروج، تحت الآیۃ: ۱۹-۲۰، ۴/۳۶۷-۳۶۸، ملتقطاً)
بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ(۲۱) فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ وہ کمال شرف والا قرآن ہے ۔لو حِ محفوظ میں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ وہ بہت بزرگی والا قرآن ہے۔لو حِ محفوظ میں ۔
{بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ: بلکہ وہ بہت بزرگی والا قرآن ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ مجیدکے بارے میں کفار کا جو گمان ہے کہ یہ شعر اور کہانَت ہے ،ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ وہ تو بہت بزرگی والا قرآن