’’اے فلاں عورت!
’’لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسیفکرپڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔
( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ عبس، ۵/۲۱۹، الحدیث: ۳۳۴۳)
وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹) وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ(۴۰) تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ(۴۱) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۠(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ہنستے خوشیاں مناتے اور کتنے مونھوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے یہ وہی ہیں کافر بدکار ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بہت سے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ہنستے ہوئے خوشیاں مناتے ہوں گے۔اور بہت سے چہروں پر اس دن گرد پڑی ہوگی۔ان پر سیاہی چڑھ رہی ہوگی ۔یہ لوگ وہی کافر بدکارہیں ۔
{وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌ: بہت سے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔} قیامت کا حال اوراس کی ہَولْناکیاں بیان فرمانے کے بعد اب اس آیت اور ا س کے بعد والی 4آیات میں مُکَلَّف لوگوں کی دو قسمیں بیان کی جا رہی ہیں ۔ (1)سعادت مند۔(2)بد بخت۔ جو لوگ سعادت مند ہیں ان کا حال یہ ہو گا کہ قیامت کے دن ان کے چہرے ایمان کے نور سے یا رات کی عبادتوں سے یا وضو کے آثارسے روشن ہوں گے اور حساب سے فارغ ہونے کے بعد وہ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت ،اس کے کرم اور اس کی رضا پر ہنستے ہوئے خوشیاں منارہے ہوں گے اور جو لوگ بد بخت ہیں قیامت کے دن ان کا حال یہ ہو گا کہ (ان کی بد عملیوں کی وجہ سے) ان کے چہروں پر گرد پڑی ہوگی اور (ان کے کفر کی وجہ سے) ان پر سیاہی چڑھ رہی ہوگی، یہ وہی کافر بدکارہیں جن کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا۔( خازن، عبس، تحت الآیۃ: ۳۸-۴۲، ۴/۳۵۵)