جب عقلمند انسان ان چیزوں میں غور کرے گا تو وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کی ناشکری اور اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کی قباحت کو جان لے گا اور اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرنے اور اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی طرف مائل ہو گا۔( خازن،عبس،تحت الآیۃ:۱۷-۲۲،۴/۳۵۴، روح البیان،عبس، تحت الآیۃ: ۱۷-۲۲، ۱۰/۳۳۴-۳۳۶، تفسیر قرطبی، عبس، تحت الآیۃ: ۱۷-۲۲، ۱۰/۱۵۳-۱۵۴، الجزء التاسع عشر، روح المعانی، عبس، تحت الآیۃ: ۱۷-۲۲، ۱۵/۳۴۴- ۳۴۷، ملتقطاً)
كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: کوئی نہیں اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اُسے حکم ہوا تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یقینا اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اللّٰہ نے اسے حکم دیا تھا ۔
{كَلَّا: کوئی نہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ کافر انسان کو تکبر کرنے سے،اس کے کفر سے ،توحید،مرنے کے بعد اٹھائے جانے اور حشر و نشر کا انکار کرنے پر اِصرار کرنے سے رو کاگیا تھا لیکن اس کافر نے اب تک اللّٰہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ایمان قبول کیا ہے اور نہ ہی وہ اپنے تکبر سے باز آیا ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے یقینا اس کافر انسان نے اب تک ایمان قبول کرنے کاوہ کام پورا نہ کیا جو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا۔( تفسیرکبیر، عبس، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۱/۵۸، تفسیرصاوی، عبس، تحت الآیۃ: ۲۳، ۶/۲۳۱۷، ملتقطاً)
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ(۲۴) اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ(۲۵) ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ(۲۶) فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ(۲۷) وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ(۲۸) وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ(۲۹) وَّ حَدَآىٕقَ غُلْبًاۙ(۳۰) وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ(۳۱) مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: تو آدمی کو چاہئے اپنے کھانوں کو دیکھے کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالاپھر زمین کو خوب چیرا تو اس