Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
504 - 881
{وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ: اس دن جھٹلانے والوں  کیلئے خرابی ہے۔} قیامت کے دن مومن انتہائی عزت وکرامت کے ساتھ ہو گا جبکہ کافر انتہائی ذلت و رُسوائی کی حالت میں  ہو گا ۔ جب وہ مومن کو انتہائی عزت و کرامت میں  دیکھے گا تو اس کی حسرت بڑھ جائے گی اور ا س کے غم اور زیادہ ہو جائیں  گے اور یہ بھی روحانی طور پر ایک عذاب ہے، اس لئے یہاں  فرمایا گیا کہ اس دن جھٹلانے والوں  کیلئے خرابی ہے۔( تفسیر کبیر، المرسلات، تحت الآیۃ: ۴۵، ۱۰/۷۷۹-۷۸۰)
كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ(۴۶) وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ(۴۷)
ترجمۂکنزالایمان: کچھ دن کھالو اور برت لو ضرور تم مجرم ہو ۔اس دن جھٹلانے والوں  کی خرابی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے کافرو!) تم (بھی دنیا میں ) کچھ دن کھالو اورفائدہ اٹھا لو ، بیشک تم مجرم ہو۔اس دن جھٹلانے والوں  کیلئے خرابی ہے۔
{كُلُوْا: کھالو۔} اللّٰہ تعالیٰ نے سرزَنِش کرنے کے طور پر کفار کو مُخاطَب کر کے فرمایا کہ اے دنیا میں جھٹلانے والو! تم دنیا میں  کچھ دن کھالو اور اپنی موت کے وقت تک فائدہ اٹھا لو ، بیشک تم مجرم اور کافرہو اور دائمی عذاب کے مُستحق ہو۔( مدارک، المرسلات، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۱۳۱۲، خازن، المرسلات، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴/۳۴۵، ملتقطاً)
{وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ: اس دن جھٹلانے والوں  کیلئے خرابی ہے۔} یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں  کے لئے خرابی ہے کیونکہ انہوں  نے عارضی چیزوں  سے فائدہ اٹھا کر اپنی جانوں  کو دائمی عذاب کے لئے پیش کر دیا۔( روح البیان، المرسلات، تحت الآیۃ: ۴۷، ۱۰/۲۹۰)
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ(۴۸) وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ(۴۹) فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠(۵۰)