Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
475 - 881
عمارت باقی نہ رہے گی۔( جمل، الانسان، تحت الآیۃ: ۷، ۸/۱۸۷)
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور کھانا کھلاتے ہیں  اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اَ    سِیر کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ اللّٰہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کوکھانا کھلاتے ہیں ۔
{وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ: اور وہ اللّٰہ کی محبت میں  کھانا کھلاتے ہیں ۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندے ایسی حالت میں  بھی مسکین ،یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں  جب کہ خود انہیں  کھانے کی حاجت اور خواہش ہوتی ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندے مسکین ،یتیم اور قیدی کو اللّٰہ تعالیٰ کی محبت میں  اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کھانا کھلاتے ہیں ۔( مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۳۰۶)
مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کی اہمیت:
	یاد رہے کہ مسکین اسے کہتے ہیں  جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں  تک کہ وہ کھانے اور بدن چھپانے کے لیے اس بات کا     محتاج ہے کہ لوگوں  سے سوال کرے اور یتیم اس نابالغ بچے کو کہتے ہیں  جس کا باپ فوت ہو چکا ہو ۔مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کی اہمیت کیا ہے ا س کا اندازہ ان آیات سے لگایا جا سکتا ہے،چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ(۱) فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ(۲) وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ ‘‘(ماعون:۱۔۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کوجھٹلاتا ہے۔پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں  دیتا۔
	اور ارشاد فرمایا: