تک معافی کے قابل نہیں جب تک وہ ان احکام پر عمل کرنا چھوڑ نہیں دیتا۔مسلمانوں کی گناہوں میں مَشغولِیَّت، توبہ اور اپنی اصلاح سے دوری اور اسلام کے احکامات پر عمل نہ کرنے کا دُنْیَوی نتیجہ آج سب کے سامنے ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں کمزور اور مغلوب نظر آ رہے ہیں اور کفّار مُسلم ممالک پر حملے کر کے ا ن کی اینٹ سے انیٹ بجا رہے ہیں جبکہ آخرت میں ا س چیزکا انجام کیا ہو گا وہ اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
وہ مُعَزّز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
توبہ میں تاخیر کرنے کے حوالے سے امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ایمان دار توبہ کرنے کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن محض سُستی اور کاہلی کے باعث اس سے توبہ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہوتی ہے اور وہ دل ہی دل میں کہتا جاتا ہے کہ میں کل توبہ کر لوں گا، ابھی یہ خواہش تو پوری کر لوں بعد میں اس کا نام تک نہ لوں گا ،تو ایسے شخص سے پوچھئے کہ تُو (توبہ کے معاملے میں ) ٹال مٹول کرنے میں کیوں مبتلاہے ؟تو کس خوش فہمی کا شکار ہے؟تو توبہ کرنے کے لئے آج کی بجائے کل کا کیوں مُنْتَظر ہے؟کیا معلوم کہ تجھے کل کا دن نصیب ہی نہ ہو،اگر تم یہ گمان رکھتے ہو کہ آج کی بجائے کل توبہ آسان ہو گی تو اس خام خیالی کو اپنے دل سے نکال دے کیونکہ یہ محال ہے اور یہ غلط بات جتنی جلدی تیرے دل سے نکل جائے اتنا ہی (تیرے لئے) اچھا ہے کیونکہ جو مشکل آج تمہیں درپیش ہے وہی کل بھی ہو سکتی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے تمام دن ایک جیسے بنائے ہیں ،ان میں کوئی دن خاص نہیں کیا جس میں شہوت کو ترک کرنا آسان ہو۔ ایسے شخص کی مثال یوں سمجھئے کہ جب اسے کہا جائے کہ فلاں درخت کو جڑوں سے اکھیڑ دو تو وہ کہے کہ یہ درخت بہت مضبوط ہے اور میں بہت کمزور ہوں ،اب تو اسے اکھیڑنا میرے بس کی بات نہیں البتہ آئندہ سال میں اسے اکھیڑ دوں گا۔ ذرا اس احمق سے پوچھئے کہ کیا اگلے سال وہ درخت اور مضبوط نہیں ہو چکا ہو گا اور تیری کمزوری مزید بڑھ نہ چکی ہو گی؟ بس یہی صورتِ حال خواہشات کے درخت کی ہے جو روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے اس لئے کہ وہ تو خواہشات اور لذات کا محکوم بن چکا ہے جس کی وجہ سے وہ خواہشات کے اَحکام پر تَسَلْسُل سے عمل پیرا ہے اور ا س کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ان خواہشات کی غلامی کی بندش کی وجہ سے ان کے خلاف چلنا اس کے بس کا روگ نہیں رہتا، لہٰذا اے انسان !جتنی جلدی تو خواہشات اور شہوات کے درخت کو اکھیڑ سکتا ہے اسے اکھیڑ دے کیونکہ اس میں تیرا ہی فائدہ ہے۔( کیمیاء سعادت، رکن چہارم، اصل اول در توبہ، ۲/۷۷۳)