Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
438 - 881
اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ-وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَؕ-وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کئے مگر فرشتے اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں  کی جانچ کو اس لیے کہ کتاب والوں  کو یقین آئے اور ایمان والوں  کا ایمان بڑھے اور کتاب والوں  اور مسلمانوں  کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی اور کافر کہیں  اس اچنبے کی بات میں  اللّٰہ کا کیا مطلب ہے یونہی اللّٰہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے اور تمہارے رب کے لشکروں  کو اس کے سوا کوئی نہیں  جانتا اور وہ تو نہیں  مگر آدمی کے لیے نصیحت۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے دوزخ کے داروغے فرشتے ہی بنائے اور ہم نے ان کی یہ گنتی کافروں  کی آزمائش کیلئے ہی رکھی اس لیے کہ کتاب والوں  کو یقین ہوجائے اور ایمان والوں  کا ایمان بڑھے اور اہلِ کتاب اور مسلمان شک نہ کریں  اور تاکہ جن کے دلوں  میں  مرض ہے وہ اور کافر کہیں : اس عجیب و غریب بات سے اللّٰہ کی کیا مراد ہے ؟ یونہی اللّٰہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تمہارے رب کے لشکروں  کو اس کے سوا کوئی نہیں  جانتااور وہ جہنم توانسان کیلئے نصیحت ہی ہے۔
{وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىٕكَةً: اور ہم نے دوزخ کے داروغے فرشتے ہی بنائے۔} شانِ نزول: حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’جب یہ آیت نازل ہوئی (جس میں  دوزخ پر مقرر فرشتوں  کی تعداد 19 بتائی گئی) تو ابو جہل نے قریش سے کہا’’تمہاری ماں  تم پر روئے، محمد (مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے خبر دی ہے کہ دوزخ کے داروغہ 19 ہیں  اور تم انتہائی بہادر اور تعداد میں  کثیرلوگ ہو تو کیا تم میں  سے دس مرد دوزخ کے ایک داروغہ کو