اور منہ بگاڑا۔پھراس نے ایمان لانے سے پیٹھ پھیری اورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرنے کو اپنی بڑائی کے خلاف سمجھا۔پھر قرآنِ مجید کے بارے میں بولا: یہ تو وہی جادو ہے جو جادوگروں سے منقول چلتا آرہا ہے اوریہ کسی آدمی ہی کا کلام ہے۔یہ سن لے کہ جلد ہی اللّٰہ تعالیٰ اسے دوزخ میں دھنسادے گا۔( جلالین، المدثر، تحت الآیۃ: ۱۸-۲۶، ص۴۸۰، خازن، المدثر، تحت الآیۃ: ۱۸-۲۶، ۴/۳۲۹، ملتقطاً)
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ(۲۷) لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ(۲۸) لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ(۲۹) عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے ۔نہ چھوڑے نہ لگی رکھے ۔آدمی کی کھال اتار لیتی ہے ۔ اس پر اُنیس داروغہ ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہیں کیا معلوم کہ دوزخ کیا ہے؟ نہ باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی ۔آدمی کی کھال جلا دینے والی ہے ۔اس پر اُنیس داروغہ ہیں ۔
{وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ: اور تمہیں کیا معلوم کہ دوزخ کیا ہے؟} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مُخاطَب! تمہیں کیا معلوم کہ دوزخ کیا ہے ؟ وہ ایسی جگہ ہے کہ عقل اس کی شدت اور سختی کا اندازہ نہیں لگا سکتی، وہ نہ کسی عذاب کے مُسْتحق کو چھوڑے گی اور نہ کسی کے جسم پر گوشت پوست کھال لگی رہنے دے گی، بلکہ عذاب کے مُستحق کو گرفتار کرے گی اور گرفتار کو جلائے گی اور ایسا نہیں ہو گا کہ ہلاک ہونے کے بعد معاملہ ختم ہو جائے گا بلکہ جب اس میں داخل لوگ جل جائیں گے تو پھر ویسے ہی کردیئے جائیں گے جیسے پہلے تھے اور جہنم پھر انہیں جلائے گی،وہ جہنم تو جلا کر آدمی کی کھال اتارلینے والی ہے اور اس پر 19 فرشتے حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے اٹھارہ ساتھی داروغہ کے طور پر مقررہیں ۔( روح البیان، المدثر، تحت الآیۃ: ۲۷-۳۰، ۱۰/۲۳۱، خازن، المدثر، تحت الآیۃ: ۲۷-۳۰، ۴/۳۲۹، ملتقطاً)