{سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًا: جلد ہی میں اسے (آگ کے پہاڑ) صعود پر چڑھاؤں گا۔} حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’صعود آگ کا ایک پہاڑ ہے جس پر کافر کو ستر سال تک چڑھایا جائے گا،پھر ستر سال تک اسے اس پہاڑ سے نیچے گرایا جائے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔( ترمذی، کتاب التفسیر ، باب ومن سورۃ المدثر، ۵/۲۱۶،الحدیث: ۳۳۳۷)
اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ(۱۸) فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ(۱۹) ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ(۲۰) ثُمَّ نَظَرَۙ(۲۱) ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ(۲۲) ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ(۲۳) فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ(۲۴) اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ(۲۵) سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی ۔تو اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی۔ پھر اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی۔ پھر نظر اٹھا کر دیکھا ۔پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا۔پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا۔یہ نہیں مگر آدمی کا کلام ۔کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس نے سوچا اور دل میں کوئی بات ٹھہرالی ۔تو اس پر لعنت ہو ، اس نے کیسی بات ٹھہرائی۔ پھر اس پر لعنت ہو، اس نے کیسی بات ٹھہرائی ۔پھر نظر اٹھا کر دیکھا۔پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑاپھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔پھر بولا: یہ تو وہی جادو ہے جو منقول چلتا آرہا ہے۔یہ آدمی ہی کا کلام ہے۔جلد ہی میں اسے دوزخ میں دھنساؤں گا۔
{اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَ: بیشک اس نے سوچا اور دل میں کوئی بات ٹھہرا لی۔} شانِ نزول: جب یہ آیت ’’ حٰمٓۚ(۱) تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ‘‘ نازل ہوئی اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسجد میں نماز کے دوران ا س کی تلاوت فرمائی تو ولید نے اس آیت کو سنا اور اپنی قوم کی مجلس میں آکر اُس نے کہا کہ خدا کی قسم !میں نے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی