(4)…چاند،رات اور صبح کی قسم کھا کر فرمایاکہ دوزخ بہت بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔
(5)…یہ بتایا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے،نیزجنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی گئی۔
(6)…مشرکین کی نادانی اور بیوقوفی بیان کی گئی کہ جس طرح شیر سے خوفزدہ ہو کر گدھا بھاگتاہے اسی طرح یہ لوگ نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تلاوتِ قرآن سن کر ان سے بھاگتے ہیں ۔
(7)…اس سورت کے آخر میں بتایا گیاکہ قرآنِ مجید عظیم نصیحت ہے توجوچاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔
سورۂ مُزَّمِّل کے ساتھ مناسبت:
سورۂ مُدَّثِّر کی اپنے سے ما قبل سورت ’’مزمل‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں کے شروع میں حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کے لباس کے ایک وصف کے ساتھ ندا فرمائی گئی۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ مزمل کی ابتدا میں تَہَجُّد پڑھنے کا حکم دیاگیا اور اس میں اپنی ذات کی تکمیل ہے اور سورۂ مدثر کی ابتدا میں لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کا حکم دیاگیا اورا س میں دوسروں کی تکمیل ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ(۱) قُمْ فَاَنْذِرْﭪ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: اے بالا پوش اوڑھنے والے ۔کھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ ۔