ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا زمین میں رہنے والوں سے کسی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے ۔
{ وَ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ: اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا زمین میں رہنے والوں سے کسی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے۔} اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ایمان قبول کرنے والے جِنّات کو یہ ڈر ہوا کہ زمین پر رہنے والے بہت سارے لوگ ایمان نہیں لائیں گے،اس پر انہوں نے اپنی قوم سے کہا ’’ہم نہیں جانتے کہ جس قرآن پر ہم ایمان لائے ہیں زمین پر رہنے والے ا س کا انکار کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ابلیس نے کہاکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری اس بندش اور روک سے اللّٰہ تعالیٰ نے زمین والوں پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمایا ہے یا ان کی طرف کسی رسول کو بھیجنے کاا رادہ فرمایا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ جِنّات نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تلاوت سننے سے پہلے آپس میں کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو انسانوں کی طرف بھیج کر ان کے ساتھ برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کی بھلائی چاہی گئی ہے کیونکہ اگر لوگ انہیں جھٹلائیں گے تو وہ اپنے جھٹلانے کی وجہ سے سابقہ امتوں کی طرح ہلاک کر دئیے جائیں گے اور اگر ایمان لے آئیں گے تو ہدایت پا جائیں گے۔( تفسیر قرطبی، الجن، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰/۱۲، الجزء التاسع عشر )
وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَؕ-كُنَّا طَرَآىٕقَ قِدَدًاۙ(۱۱)وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے ہیں ہم کئی راہیں پھٹے ہوئے ہیں ۔اور یہ کہ ہم کو یقین ہوا کہ ہر گز زمین میں اللّٰہ کے قابو سے نہ نکل سکیں گے اور نہ بھاگ کر اس کے قبضہ سے باہر ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ اس کے علاوہ ہیں ، ہم مختلف راہوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔