کہ وہ لوگ جو قطعی جنّتی تھے ،ہر وقت نیک اعمال میں مصروف رہتے تھے اور گناہوں سے بچنے کی مقدور بھر کوشش کرتے تھے ،ا س کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے ان کا کیا حال تھا ، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک بارپرندے کو دیکھ کر فرمایا:’’ اے پرندے! کاش ! میں تمہاری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے:میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں ایک مینڈھا ہوتا جسے میرے اہلِ خانہ اپنے مہمانوں کے لیے ذبح کر دیتے ۔
حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ ’’کاش! میں ایک درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا۔
حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے:’’ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھے وفات کے بعد اُٹھایا نہ جائے۔
حضرت طَلْحہ اور حضرت زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرمایا کرتے: ’’کاش! ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرمایا کرتیں : ’’کاش! میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی۔
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے:کاش! میں راکھ ہوتا۔( قوت القلوب، الفصل الثانی والثلاثون، شرح مقام الخوف ووصف الخائفین۔۔۔ الخ،۱/۴۵۹-۴۶۰)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے ڈرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔
{ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ: بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔} امام عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ اس کا معنی یہ ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی نیک ،پارسا اور عبادت و اطاعت کی