Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
337 - 881
(5)…مسلمانوں  کے 8وہ اوصاف بیان کئے گئے جن کی وجہ سے وہ مشرکین سے ممتاز ہیں ۔
(6)…اس سورت کے آخر میں  کفارِ مکہ کی سَرزَنِش کی گئی اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ان کے سامنے کفار کا اُخروی انجام بیان کیا گیا۔
سورۂ حاقہ کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ معارج کی اپنے سے ما قبل سورت’’حاقہ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ حاقہ کی طرح اس سورت میں  بھی قیامت کی ہَولناکیاں ، جنت اور جہنم کے اَحوال ،اہلِ ایمان اور کفار کا اُخروی انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ سورت گویا کہ سورۂ حاقہ کا تَتِمَّہ ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
سَاَلَ سَآىٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ(۱) لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے ۔جو کافروں  پر ہونے والا ہے اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ایک مانگنے والے نے وہ عذاب مانگاجو کافروں  پر واقع ہونے والا ہے، اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ۔
{سَاَلَ سَآىٕلٌۢ بِعَذَابٍ: ایک مانگنے والے نے وہ عذاب مانگا۔} ان آیات کے شانِ نزول کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب کفارِ مکہ کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف دلایا تو وہ آپس میں  کہنے لگے کہ محمد (مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) سے پوچھو کہ اس عذاب کے مُستحق کو ن لوگ ہیں  اور یہ کن لوگوں  پر