Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
321 - 881
ترجمۂکنزالایمان: اس دن تم سب پیش ہو گے کہ تم میں  کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن تم سب اس حال میں  پیش کئے جاؤ گے کہ تم میں  سے کسی کی کوئی پوشیدہ حالت چھپ نہ سکے گی۔
{یَوْمَىٕذٍ تُعْرَضُوْنَ: اس دن تم سب پیش کئے جاؤ گے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمہارے تمام احوال جانتا ہے ، ا س پر تمہاری کوئی حالت پوشیدہ نہیں  اور قیامت کے دن تم اسی کی بارگاہ میں  حساب کے لئے پیش کئے جاؤ گے۔بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ دنیا میں تمہاری جو حالت پوشیدہ تھی قیامت کے دن وہ پوشیدہ نہیں  رہے گی کیونکہ وہ مخلوق کے احوال ظاہر کر دے گی تو نیک لوگ اپنی نیکیوں  کی وجہ سے خوش ہوں  گے اور گناہگار اپنے گناہوں  کی وجہ سے غمزدہ ہوں  گے۔( خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴/۳۰۴)
اپنے اعمال کا محاسبہ اور اُخروی حساب کی تیاری کرنے کی ترغیب:
	اس آیت میں  دنیا میں  ہی اپنے اعمال کا محاسبہ کرلینے اور قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ہونے والے حساب کی تیاری کر لینے کی بھی ترغیب ہے ۔اسی چیز کا حکم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ‘‘(الحشر:۱۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔
	 اور اپنے حساب کے معاملے میں  لوگوں  کا حال بیان کرتے ارشاد فرماتا ہے:
’’ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘(انبیاء:۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگوں  کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں  منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
	اور قیامت کے دن حساب کے معاملات اور لوگوں  کی جزا کے بارے میں  بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:’’وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّاؕ-لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سب تمہارے رب کی بارگاہ میں