اس کے 10عیب بیان کر کے اسے ذلیل و رُسوا کر دیا۔
(2)…کفارِ مکہ کے سامنے ایک باغ والوں کی مثال بیان کی گئی کہ جب انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور حقداروں کو ان کا حق نہ دینے کا عزم کیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اس باغ کو جلا کر خاکِسْتَر کر دیا ،اور انہیں بتایاگیا کہ جو اللّٰہ تعالیٰ کی حدوں سے تجاوُز کرے اور اس کے حکم کی مخالفت کرے تو اس کے لئے بھی اللّٰہ تعالیٰ کی ایسی ہی سزا ہوتی ہے، لہٰذا وہ ہوش میں آئیں اور اپنا انجام خود سوچ لیں کہ دنیا کی سزا اتنی دردناک ہے تو آخرت کی سزا کیسی ہو گی ۔
(3)…یہ بتایا گیا کہ کافروں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ مسلمان اور کافر ایک جیسے ہیں اور اس دعوے پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔
(4)…حشر کے میدان میں کفار کی ذلت و رُسوائی بیان کی گئی اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کرنے اور ہرحال میں حکم ِالٰہی کے انتظار و پیروی کرنے کی تلقین کی گئی اور اسی سلسلے میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا گیا۔
(5)…اس سورت کے آخر میں کفار کے حسد و عناد کاذکر گیا اور یہ بتایاگیا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام جہانوں کیلئے شرف کا باعث ہیں توان کی طرف جنون کی نسبت کس طرح کی جا سکتی ہے ۔
سورۂ ملک کے ساتھ مناسبت:
سورۂ قلم کی اپنے سے ما قبل سورت’’ملک‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ ملک میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اوراپنے علم کی وسعت کے دلائل بیان فرمائے،مرنے کے بعد مخلوق کے دوبارہ زندہ ہونے کو ثابت فرمایا، مشرکین کو دنیا و آخرت کے دردناک عذاب سے ڈرایا اور انہیں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت ،موت کے بعد اٹھائے جانے اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر ایمان لانے کی ترغیب دی اور سورۂ قلم کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ نے کافروں کی طرف سے اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر لگائے گئے الزامات کا بڑے پُر جلال انداز میں جواب دیا ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ