پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔اللّٰہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو تو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
{وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ: اور اللّٰہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اسے مانو اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جو حکم دیا اسے بھی مانو، پھر اگر تم اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری سے منہ پھیرو تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، چنانچہ اُنہوں نے اپنا فرض ادا کردیا اور کامل طور پر دین کی تبلیغ فرمادی ۔( خازن، التغابن، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۲۷۶، مدارک، التغابن، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۲۴۸، ملتقطاً)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح ضروری ہے، کیونکہ دونوں اطاعتوں کو ایک ہی طریقہ سے بیان فرمایا گیا ہے۔
{وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ: اور ایمان والوں کو تو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔} یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ پر توکُّل کی حقیقت یہ ہے کہ اَسباب کو اختیار کیا جائے مگر اعتماد اور بھروسہ صرف رب تعالیٰ پر کیا جائے، لہٰذا بیماری میں علاج کرنا، مصیبت میں ظاہری حکام یا باطنی حکام جیسے اللّٰہ تعالیٰ کے اولیا ء کی بارگاہ میں حاضر ہونا توکُّل کے خلاف نہیں ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْۚ-وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو تمہاری کچھ بیبیا ں اور بچے تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھواور اگر معاف کرو اور درگزرکرو اور بخش دو تو بے شک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط