Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
166 - 881
منہ پھیر لیتے ہیں ۔( خازن، المنافقون، تحت الآیۃ : ۵، ۴/۲۷۱ ، مدارک، المنافقون ، تحت الآیۃ : ۵، ص۱۲۴۴ ، روح البیان، المنافقون، تحت الآیۃ: ۵، ۹/۵۳۵، ملتقطاً)
سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْؕ-لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اللّٰہ انھیں  ہر گز نہ بخشے گا بے شک اللّٰہ فاسقوں  کو راہ نہیں  دیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے حق میں  برابر ہے کہ تم ان کے لیے استغفار کرو یا ان کے لیے استغفار نہ کرو اللّٰہ انہیں  ہرگز نہیں  بخشے گا، بیشک اللّٰہ نافرمانوں  کو ہدایت نہیں  دیتا۔
{سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ: ان کے حق میں  برابر ہے کہ تم ان کے لیے استغفار کرو یا ان کے لیے استغفار نہ کرو۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،آ پ کا ان کیلئے استغفار کرنا اور نہ کرنا ان کے حق میں  برابر ہے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں  ہر گز نہیں  بخشے گاکیونکہ وہ نفاق میں  راسخ اور پختہ ہوچکے ہیں ، بیشک اللّٰہ تعالیٰ ان لوگوں  کو ہدایت نہیں  دیتا جو ا س کے علم میں  نافرمان ہیں  ۔
	 یہ ارشاد اسی وقت تھا جب منافقوں  کے لئے دعائے مغفرت کرنا ممنوع نہ تھا،بعد میں  اس سے منع فرمادیا گیا ہے، لہٰذا اب منافقوں  اور کافروں  کے لئے مغفرت کی دعا کرنا منع ہے بلکہ کافر کیلئے دعائے مغفرت کرنا کفر ہے۔
هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْاؕ-وَ لِلّٰهِ خَزَآىٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ