Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
164 - 881
گے، اللّٰہ تعالیٰ (ان سے ) فرمائے گا’’کیا تم میرے ساتھ دھوکہ کرتے ہو یا مجھ پر جرأت کرتے ہو،مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں  ان لوگوں  پر ان ہی میں  سے ضرور فتنہ بھیجوں  گا جو ان میں  سے سمجھ دار لوگوں  کو بھی حیران اور پریشان کر دے گا۔( ترمذی، کتاب الزہد، ۶۰-باب،۴/۱۸۱، الحدیث: ۲۴۱۲)
(2)…حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’میرے بندوں  میں  کچھ لوگ ایسے ہوں  گے جو لوگوں  کے سامنے تو بھیڑ کی کھال پہنیں  گے جبکہ ان کے دل ایلوا(نام کی جڑی بوٹی) سے بھی زیادہ کڑوے ہوں  گے اور ان کی زبانیں  شہد سے زیادہ میٹھی ہوں  گی ،وہ لوگوں  کو اپنے دین کے ذریعے دھوکہ دیں  گے،کیا وہ مجھے دھوکہ دے رہے ہیں  یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں ،مجھے اپنی قسم ہے ،میں  ان میں  ایسا فتنہ بھیجوں  گا جو ان میں  حکیم شخص کو حیران کر چھوڑے گا۔( ابن عساکر، ذکر من اسم ابیہ سلیمان، ۶۴۱۶- محمد بن سلیمان بن ابی داود۔۔۔ الخ، ۵۳/۱۲۱)
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ  رسول اللّٰہ تمہارے لیے معافی چاہیں  تو اپنے سر گھماتے ہیں  اور تم اُنھیں  دیکھو کہ غور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ تاکہ اللّٰہ کے رسول تمہارے لیے معافی چاہیں  تو وہ اپنے سر گھما لیتے ہیں  اور تم انہیں  دیکھو گے کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں ۔
{وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا: اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ ۔} شانِ نزول: غزوہِ مریسیع سے فارغ ہو کر جب نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سرِ راہ قیام فرمایا تو وہاں  یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اجیر جہجاہ غفاری اور عبد اللّٰہ بن اُبی کے حلیف سنان بن دبرجُہَنی کے درمیان لڑائی ہوگئی، جہجاہ نے مہاجرین کو اور سنان نے انصار کو پکارا،