ترجمۂکنزالعرفان:وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اوراس چیز کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کااللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
{الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ:وہ جو اللہ کا عہد توڑتے ہیں۔} اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آسمانی کتابوں میں حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے متعلق فرمایا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ عہد تین ہیں :
پہلا عہد وہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام اولادِ آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں ،اس کا بیان سورہ اعراف، آیت 172 میں ہے۔ دوسرا عہد انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین قائم کریں ، اس کا بیان سورہ احزاب آیت 7 میں ہے۔ تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں ، اس کا بیان سورہ آل عمران آیت 187 میں ہے۔
{مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ:جس چیزکااللہ نے حکم دیا ۔} جن چیزوں کے ملانے کا حکم دیا گیا وہ یہ ہیں : (۱)رشتے داروں سے تعلقات جوڑنا،(۲)مسلمانوں کے ساتھ دوستی و محبت کرنا، (۳) تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ماننا، (۴)تمام کتابوں کی تصدیق کرنا اورحق پر جمع ہونا۔ ان کو قطع کرنے کا معنیٰ ہے رشتے داروں سے تعلق توڑنا، انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ ماننا اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی تصدیق نہ کرنا۔ (تفسیر بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ۱/۲۶۶)
کَیۡفَ تَکْفُرُوۡنَ بِاللہِ وَکُنۡتُمْ اَمْوٰتًا فَاَحْیٰکُمْ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیۡکُمْ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ﴿۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:بھلا تم کیونکر خدا کے منکر ہو گے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے ۔
ترجمۂکنزالعرفان:تم کیسے اللہ کے منکر ہوسکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تواس نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔