Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
96 - 520
اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحۡیٖۤ اَنۡ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوۡضَۃً فَمَا فَوْقَہَا ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَیَعْلَمُوۡنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ ۚ وَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَیَقُوۡلُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلًا ۘ یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًاۙ وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ وَمَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیۡنَ﴿ۙ۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر تو وہ جو ایمان لائے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے رہے کافر وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصود ہے، اللہ  بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کے لئے کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر۔ بہرحال ایمان والے تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور رہے کافر تو وہ کہتے ہیں ، اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اللہبہت سے لوگوں کواس کے ذریعے گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے اور وہ اس کے ذریعے صرف نافرمانوں ہی کو گمراہ کرتا ہے۔ 
{اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحۡیٖۤ:بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا۔} جب اللہ تعالیٰ نے ’’سورہ ٔبقرہ‘‘ (کے دوسرے رکوع ) میں منافقوں کی دو مثالیں بیان فرمائیں تو منافقوں نے یہ اعتراض کیاکہ اللہ  تعالیٰ کی شان اس سے بلند تر ہے کہ ایسی مثالیں بیان فرمائے اور بعض علماء نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے معبودوں کی کمزوری کو مکڑی کے جالوں وغیرہ کی مثالوں  سے بیان فرمایا تو کافروں نے اس پر اعتراض کیا ۔اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔
(تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱/۳۶۱، طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱/۲۱۳-۲۱۴،  ملتقطاً)
	چونکہ مثالوں کا بیان حکمت کے مطابق اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتاہے اورماہرینِ کلام کا یہ طریقہ ہے اس لیے مثال بیان کرنے پر اعتراض غلط ہے۔