Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
88 - 520
بیکار ہیں۔
اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیۡہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعۡدٌ وَّ بَرۡقٌ ۚ یَجۡعَلُوۡنَ اَصٰبِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ مِّنَ الصَّوٰعِقِ حَذَرَالۡمَوۡتِ ؕ وَاللہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ﴿۱۹﴾ یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصٰرَہُمْ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوْا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیۡہِمْ قَامُوۡا ؕ وَلَوْشَآءَ اللہُ لَذَہَبَ بِسَمْعِہِمْ وَاَبْصٰرِہِمْ ؕ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۲۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اچک لے جائے گی جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔
ترجمۂکنزالعرفان:یا (ان کی مثال) آسمان سے اترنے والی بارش کی طرح ہے جس میں تاریکیاں اور گرج اور چمک ہے ۔ یہ زور دار کڑک کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں حالانکہ اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اچک کرلے جائے گی۔ (حالت یہ کہ)جب کچھ روشنی ہوئی تو اس میں چلنے لگے اور جب ان پر اندھیرا چھا گیا تو کھڑے رہ گئے اور اگراللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں سلَب کر لیتا۔ بیشک اللہ ہر شے پر قادرہے۔
{اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ:یا جیسے آسمان سے بارش۔} ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری مثال بیان کی گئی ہے اور یہ ان منافقین کا حال ہے جو دل سے اسلام قبول کرنے اور نہ کرنے میں متردد رہتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ جس طرح اندھیری رات اور بادل و بارش کی تاریکیوں میں مسافر متحیر ہوتا ہے، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت