Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
74 - 520
اشارہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا آخرت کے متعلق عقیدہ درست نہیں کیونکہ ان میں سے ہرایک کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگاجیسا کہ سورہ بقرہ آیت 111میں ہے اور خصوصا یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ ہم اگرجہنم میں گئے تو چند دن کیلئے ہی جائیں گے، اس کے بعد سیدھے جنت میں جیسا کہ سورہ بقرہ آیت 80 میں ہے۔
(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۱/۱۹، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴، ص۲۱، ملتقطاً)
	 اس طرح کے فاسد اور من گھڑت خیالات جب ذہن میں جم جاتے ہیں تو پھر ان کی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے۔
اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ﴿۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے۔
ترجمۂکنزالعرفان:یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اوریہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
{ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ: وہی فلاح پانے والے ہیں۔} یعنی جن لوگوں میں بیان کی گئی صفات پائی جاتی ہیں وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے عطا کی گئی ہدایت پر ہیں اوریہی لوگ جہنم سے نجات پاکر اور جنت میں داخل ہو کر کامل کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۱/۲۵)
اصل کامیابی ہر مسلمان کو حاصل ہے:
	یاد رہے کہ اس آیت میں فلاح سے مراد ’’کامل فلاح‘‘ ہے یعنی کامل کامیابی متقین ہی کو حاصل ہے ہاں اصلِ فلاح ہر مسلمان کو حاصل ہے اگرچہ وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو کیونکہ ایمان بذات ِ خود بہت بڑی کامیابی ہے جس کی برکت سے بہرحال جنت کا داخلہ ضرور حاصل ہوگا اگرچہ عذابِ نار کے بعد ہو۔ 
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآ ءٌ عَلَیۡہِمْ ءَاَنۡذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنۡذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ﴿۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے انہیں برابر ہے چاہے تم انہیں ڈراؤیا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں۔