Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
70 - 520
(6)… اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں جیسے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء عِظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمپر ’’غیب ‘‘کے دروازے کھولتا ہے جیسا کہ خود قرآن و حدیث میں ہے۔ اس موضوع پرمزید کلام سورہ ٔ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 179 کی تفسیر میں مذکور ہے ۔
{وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ:اور نماز قائم کرتے ہیں۔}آیت کے اس حصے میں متقی لوگوں کا دوسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ظاہری اور باطنی حقوق ادا کرتے ہوئے نمازپڑ ھی جائے۔نماز کے ظاہری حقوق یہ ہیں کہ ہمیشہ، ٹھیک وقت پر پابندی کے ساتھ نماز پڑھی جائے اورنماز کے فرائض، سنن اور مستحبات کا خیال رکھا جائے اور تمام مفسدات و مکروہات سے بچا جائے جبکہ باطنی حقوق یہ ہیں کہ آدمی دل کوغیرُاللہکے خیال سے فارغ کرکے ظاہروباطن کے ساتھ بارگاہِ حق میں متوجہ ہواوربارگاہِ الٰہی میں عرض و نیاز اور مناجات میں محو ہو جائے۔ 
(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱/۱۱۵-۱۱۷، جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱/۱۸، ملتقطاً )
نماز قائم کرنے کے فضائل اور نہ کرنے کی وعیدیں :
	قرآنِ مجید اور احادیث میں نماز کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کے فضائل بیان کئے گئے اور نہ پڑھنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے چنانچہ سورہ ٔ مومنون میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾‘‘              (مؤمنون: ۱-۲)
ترجمۂکنزالعرفان:بیشک(وہ) ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔
اسی سورت میں ایمان والوں کے مزید اوصاف بیان کرنے کے بعد ان کا ایک وصف یہ بیان فرمایا کہ
 ’’وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾‘‘ (مؤمنون: ۹)
ترجمۂکنزالعرفان:اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
 اور ان اوصاف کے حامل ایمان والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾ الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الْفِرْدَوْسَؕ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱﴾‘‘(مؤمنون: ۱۰-۱۱)
ترجمۂکنزالعرفان: یہی لوگ وارث ہیں۔یہ فردوس کی میراث پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔