Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
57 - 520
 صراطِ مستقیم کا معنی:
	صراطِ مستقیم سے مراد’’عقائد کا سیدھا راستہ ‘‘ہے، جس پر تمام انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چلے یا اِس سے مراد’’ اسلام کا سیدھا راستہ‘‘ ہے جس پرصحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ، بزرگانِ دین اور اولیائِ عِظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ چلے جیسا کہ اگلی آیت میں موجود بھی ہے اور یہ راستہ اہلسنّت کا ہے کہ آج تک اولیاء ِ کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْصرف اِسی مسلک ِاہلسنّت میں گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہی کے راستے پر چلنے اور انہی کے ساتھ ہونے کا فرمایا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾‘‘ (التوبۃ: ۱۱۹)
ترجمۂکنزالعرفان:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
	اور حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’بے شک میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی،اور جب تم (لوگوں میں ) اختلاف دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ سواد اعظم (یعنی مسلمانوں کے بڑے گروہ) کے ساتھ ہو جاؤ۔  (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم، ۴/۳۲۷، الحدیث: ۳۹۵۰)
	حضرت عبداللہ بن عمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’بنی اسرائیل 72فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت 73فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی،ان میں سے ایک کے علاوہ سب جہنم میں جائیں گے۔صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْنے عرض کی: یارسول اللہ!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،نجات پانے والا فرقہ کونسا ہے؟ارشاد فرمایا:’’(وہ اس طریقے پر ہو گا)جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
(ترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی افتراق۔۔۔ الخ، ۴/۲۹۱-۲۹۲، الحدیث: ۲۶۵۰)
ہدایت حاصل کرنے کے ذرائع:
	یاد رہے کہ اللہ  تعالیٰ نے ہدایت حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع عطا فرمائے ہیں ،ان میں سے چند یہ ہیں :
(1)…انسان کی ظاہری باطنی صلاحیتیں جنہیں استعمال کر کے وہ ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔
(2)…آسمانوں ، زمینوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں جن میں غورو فکر کر کے انسان