Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
50 - 520
 فرمایا:’’ سب سے افضل ذکر      ’’ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ ہے اور سب سے افضل دُعا ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ‘‘ہے۔
(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴/۲۴۸، الحدیث: ۳۸۰۰)
(3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ (نعمت ملنے پر) ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘کہتا ہے تو یہ حمد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دی گئی نعمت سے زیادہ افضل ہے۔		(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴/۲۵۰، الحدیث: ۳۸۰۵)
حمد سے متعلق شرعی حکم :
	 خطبے میں حمد’’ واجب‘‘، کھانے کے بعد ’’مستحب‘‘، چھینک آنے کے بعد ’’سنت‘‘ ،حرام کام کے بعد ’’حرام‘‘ اور بعض صورتوں میں ’’کفر‘‘ہے۔
{لِلہِ:اللہ کے لئے۔}  ’’اللہ‘‘ اس ذات ِ اعلیٰ کاعظمت والا نام ہے جو تمام کمال والی صفتوں کی جامع ہے اوربعض مفسرین نے اس لفظ کے معنٰی بھی بیان کیے ہیں جیسے ا س کا ایک معنی ہے: ’’عبادت کا مستحق‘‘ دوسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی معرفت میں عقلیں حیران ہیں ‘‘ تیسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی بارگاہ میں سکون حاصل ہوتاہے:‘‘ اور چوتھا معنی ہے: ’’وہ ذات کہ مصیبت کے وقت جس کی پناہ تلاش کی جائے۔‘‘                      (بیضاوی، الفاتحۃ، ۱/۳۲)
{رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ: جو سارے جہان والوں کا مالک ہے۔}لفظ’’رَبِّ‘‘ کے کئی معنی ہیں : جیسے سید، مالک، معبود، ثابت، مصلح اور بتدریج مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر موجود چیز کو عالَم کہتے ہیں اور اس میں تمام مخلوقات داخل ہیں۔                  (صاوی، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱/۱۶، خازن، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱/۱۷، ملتقطاً)
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:بہت مہربان رحمت والا۔
ترجمۂکنزالعرفان:بہت مہربان رحمت والا۔
{اَلرَّحْمٰنِ:بہت مہربان۔}رحمن اور رحیم اللہ تعالیٰ کے دو صفاتی نام ہیں ، رحمن کا معنٰی ہے: نعمتیں عطا کرنے والی وہ ذات جو بہت زیادہ رحمت فرمائے اور رحیم کا معنی ہے : بہت رحمت فرمانے والا۔