Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
487 - 520
	 لہٰذا جیسے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر نطفہ کے بنے،ایسے ہی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔تو جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خدا کے بیٹے نہ ہوئے تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامخدا عَزَّوَجَلَّکے بیٹے کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔
اَلْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الْمُمْتَرِیۡنَ﴿۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے سننے والے یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں میں نہ ہونا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے سننے والے! حق تیرے رب کی طرف سے ہے پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
{اَلْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ: حق تیرے رب کی طرف سے ہے۔} آیت کا معنیٰ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ جو واقعہ بیان ہوا یہ حق ہے اور تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے لہٰذا اس میں شک نہ کرواور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر حق تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے لہٰذا اس میں شک نہ کرو اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بھی اسی حق میں سے ہے جو تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے لہٰذا اس میں بھی شک نہ کرو۔ 
فَمَنْ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ﴿۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر اے محبوب جو تم سے عیسٰی کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اے حبیب! تمہارے پاس علم آجانے کے بعد جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں جھگڑا کریں تو تم ان سے فرما دو: آ ؤ ہم اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کواور اپنی عورتوں کواور تمہاری عورتوں کواور اپنی جانوں کواور تمہاری جانوں کو (مقابلے میں) بلا لیتے ہیں پھر مباہلہ کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالتے ہیں۔