ادب سے کھڑا ہونا بھی۔ جب فرشتوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آیت میں مذکور حکم سنایا تو حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے اتنا طویل قیام کیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے قدم مبارک پر ورم آگیا اور پاؤں پھٹ کر خون جاری ہوگیا ۔
(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۴۳، ۱/۲۴۹)
ذٰلِکَ مِنْ اَنۡۢـبَآءِ الْغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَؕ وَمَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمْ اِذْ یُلْقُوۡنَ اَقْلٰمَہُمْ اَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ۪ وَمَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوۡنَ﴿۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ ان میں کون مریم کی پرورش کرے گا اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
{ذٰلِکَ مِنْ اَنۡۢـبَآءِ الْغَیۡبِ: یہ غیب کی خبریں ہیں۔} اس آیت میں فرمایا گیا کہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا واقعہ غیب کی خبروں میں سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو غیب کے علوم عطا فرمائے ہیں۔ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعات جو قرآن و حدیث میں آئے سب غیب کی خبریں ہیں۔
{اِذْ یُلْقُوۡنَ اَقْلٰمَہُمْ: جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈال رہے تھے۔} چونکہ بہت سے لوگ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی پرورش کے امیدوار تھے۔ اس لئے آپس میں بحث و مباحثہ کے بعد انہوں نے قرعہ اندازی پر فیصلہ چھوڑ دیا چنانچہ جن قلموں سے تورات لکھا کرتے تھے ان کے ذریعے قرعہ اندازی کی اور طے یہ پایا کہ ہر کوئی اپنا قلم پانی میں رکھے، جس کا قلم پانی کے بہاؤ کے الٹی طرف بہنا شروع کر دے وہ کفالت کا حق دار ہو گا۔ سب نے اپنی اپنی قلم پانی میں ڈالی تو حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قلم الٹی طرف بہنا شروع ہو گیا ا س طرح حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کفالت میں آگئیں۔
(تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۲۱۹)
قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کرناـ:
اس سے معلوم ہوا کہ عام معاملات میں قرعہ اندازی سے بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے جیسے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سفر میں ساتھ لے جانے کیلئے ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرمایا کرتے تھے۔