یوں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاحضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی کفالت میں چلی گئیں۔
(مدارک، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۱۵۸)
{وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزْقًا: ان کے پاس نیا پھل پاتے۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بہت عظمت عطا فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس بے موسم کے پھل آتے جو جنت سے اترتے اور حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا۔ جب حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس جاتے تو وہاں بے موسم کے پھل پاتے۔ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے سوال کیا کہ یہ پھل تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ تو حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بچپن کی عمر میں جواب دیا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے۔ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے یہ کلام اس وقت کیا جب وہ پالنے یعنی جُھولے میں پرورش پارہی تھیں جیسا کہ ان کے فرزند حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے اسی حال میں کلام فرمایا۔ حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے جب یہ دیکھا توخیال فرمایا ،جو پاک ذات حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بے وقت بے موسم اور بغیرظاہری سبب کے میوہ عطا فرمانے پر قادر ہے وہ بے شک اس پر بھی قادر ہے کہ میری بانجھ بیوی کو نئی تندرستی دیدے اور مجھے اس بڑھاپے کی عمر میں اولاد کی امید ختم ہوجانے کے بعد فرزند عطا فرمادے۔ اس خیال سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دعا کی جس کا اگلی آیت میں بیان ہے۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۷، ۱/۲۴۶)
یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ سورہ مریم آیت 2تا 15میں مذکور ہے۔ مذکورہ بالا آیت سے اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکی کرامات بھی ثابت ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارق یعنی خلافِ عادت چیزیں ظاہر فرماتا ہے۔
ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗۚ قَالَ رَبِّ ہَبْ لِیۡ مِنۡ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃًۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ﴿۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہاں پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا مانگی ،عرض کی :اے میرے رب! مجھے اپنی بارگاہ سے پاکیزہ