قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَاؕ قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنۡدِ اللہِؕ اِنَّ اللہَ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ﴿۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہا اے مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس کے رب نے اسے اچھی طرح قبول کیا اور اسے خوب پروان چڑھایا اور زکریا کواس کا نگہبان بنا دیا، جب کبھی زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے تواس کے پاس پھل پاتے۔ (زکریا نے) سوال کیا، اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بے شمار رزق عطا فرماتا ہے۔
{فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ: تو اس کے رب نے اسے اچھی طرح قبول کیا ۔}اللہ تعالیٰ نے نذر میں لڑکے کی جگہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکو قبول فرما لیااور انہیں احسن انداز میں پروان چڑھایا۔ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا دوسرے بچوں کی بَنسبت بہت تیزی کے ساتھ بڑھتی رہیں۔ حضرت حَنَّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے ولادت کے بعد حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیتُ المقدس کے علماء کے سامنے پیش کردیا تاکہ وہ انہیں اپنی کفالت میں لے لیں۔ ان علماء کو بہت معزز شمار کیا جاتا تھا، یہ علماء حضرت ہارون عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی اولاد میں سے تھے اور بیتُ المقدس کی خدمت پر مقرر تھے۔ چونکہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیٹی تھیں جو ان علماء میں ممتاز تھے اور ان کا خاندان بھی بنی اسرائیل میں بہت اعلیٰ اور صاحب ِ علم خاندان تھا اس لئے اُن سب علماء نے جن کی تعداد ستائیس تھی حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اپنی پرورش میں لینے میں رغبت ظاہر کی ۔ حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے فرمایا کہ میں ان کا سب سے زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میرے گھر میں ان کی خالہ ہیں ، معاملہ اس پر ختم ہوا کہ قرعہ اندازی کی جائے چنانچہ قرعہ حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامہی کے نام پر نکلا اور