Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
464 - 520
واقعہ بیان ہورہا ہے ۔ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی تھی کہ اے اللہ! میں تیرے لئے نذر مانتی ہوں کہ میرے پیٹ میں جو اولاد ہے وہ خاص تیرے لئے وقف ہے ۔ تیری عبادت کے سوا دنیا کا کوئی کام اس کے متعلق نہ ہو اور بیتُ المقدس کی خدمت اس کے ذمہ ہو۔ علماء نے واقعہ اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت زکریاعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اور حضرت عمران  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دونوں ہم زُلف تھے ۔فاقوذا کی دُختر اِیشاع حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی زوجہ تھیں اور یہ حضرت یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی والدہ ہیں اور ان کی بہن حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیوی تھیں اور یہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی والدہ ہیں۔ ایک زمانہ تک حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہاں اولاد نہیں ہوئی یہاں تک کہ بڑھاپا آگیا اور مایوسی ہوگئی، یہ صالحین کا خاندان تھا اور یہ سب لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندے تھے۔ ایک روز حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے ایک درخت کے سایہ میں ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچہ کو بھرا رہی تھی یعنی دانہ کھلا رہی تھی۔ یہ دیکھ کر آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں دعا کی کہ یارب ! عَزَّوَجَلَّ،اگر تو مجھے بچہ دے تو میں اس کو بیت المقدس کا خادم بناؤں گی اور اس خدمت کے لیے حاضر کردوں گی ۔چنانچہ جب وہ حاملہ ہوئیں اور انہوں نے یہ نذر مان لی تو ان کے شوہر نے فرمایا: یہ تم نے کیا کیا ،اگر لڑکی ہوگی تو وہ اس قابل کہاں ہوگی؟اس زمانہ میں بیتُ المقدس کی خدمت کے لیے لڑکوں کودیا جاتا تھا اور لڑکیاں اپنے مخصوص معاملات ، زنانہ کمزوریوں اور مردوں کے ساتھ نہ رہ سکنے کی وجہ سے اس قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں۔ اس لیے حضرت عمران  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شدید فکر لاحق ہوئی ۔ حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکے ہاں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی ولادت سے پہلے حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا انتقال ہو گیا تھا۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۵، ۱/۲۴۴)
فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعْتُہَاۤ اُنۡثٰیؕ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ وَلَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰیۚ وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَابِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب اُسے جنا بولی اے رب میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ