آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ، چنے ہوئے، منتخب بندوں کی عظمت و شان کو بیان کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، جیسے یہاں پر برگزیدہ بندوں کا تذکرہ ہوا اور اس کے آگے کی آیتوں میں مُقربینِ بارگاہِ الٰہی کا تفصیل سے تذکرہ ہوا۔
ذُرِّیَّۃًۢ بَعْضُہَا مِنۡۢ بَعْضٍؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿ۚ۳۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:یہ ایک نسل ہے جو ایک دوسرے سے ہے اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
{ذُرِّیَّۃًۢ: یہ ایک نسل ہے۔}یعنی ان بر گزیدہ بندوں میں باہم نسلی تعلقات بھی ہیں اوردین کے اندر یہ حضرات ایک دوسرے کے معاون و مددگار بھی ہیں۔
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطْنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیۡۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ﴿۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: جب عمران کی بی بی نے عرض کی اے رب میرے میں تیرے لئے مَنَّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تو تُو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے عرض کی: اے میرے رب! میں تیرے لئے نذر مانتی ہو کہ میرے پیٹ میں جواولاد ہے وہ خاص تیرے لئے آزاد (وقف) ہے تو تو مجھ سے (یہ )قبول کرلے بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
{اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ: جب عمران کی بیوی نے عرض کی۔ } عمران دو ہیں ایک عمران بن یَصْہُرْبن قاہِثْ بن لاوٰی بن یعقوب یہ تو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد ہیں اور دوسرے عمران بن ماثان یہ حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی والدہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے والد ہیں ان دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو برس کا فرق ہے ،یہاں دوسرے عمران مراد ہیں
(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۵، ۱/۲۴۳،جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۵، ۱/۴۰۰، ملتقطاً)
ان کی بیوی یعنی حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکی والدہ کا نام حَنَّہ بنت فاقوذا ہے ۔یہاں آیت میں انہی کا