Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
459 - 520
حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اتبا ع کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو اللہ عَزَّوَجَلَّکے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ تب یہ آیت اتری۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱/۲۴۳)
	 مفتی احمد یار خان نعیمی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ یہی قول قوی ہے کیونکہ سورۂ آلِ عمران مدنی ہے۔
رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی پیروی ضروری ہے:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اتباع اور پیروی کرنا ضروری ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللہِ اِلَیۡکُمْ جَمِیۡعَۨا الَّذِیۡ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾                 (اعراف:۱۵۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان:تم فرماؤ: اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں ، ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں ، اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو تاکہ تم ہدایت پالو۔
	حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :ایک مرتبہ تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم یہودیوں کی کچھ باتیں سنتے ہیں جو ہمیں بھلی لگتی ہیں کیا آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اجازت دیتے ہیں کہ کچھ لکھ بھی لیا کریں ؟نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ کیا تم یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح حیران ہو! میں تمہارے پاس روشن اور صاف شریعت لایا اور اگر آج حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا ۔ (شعب الایمان، الرابع من شعب الایمان، ذکر حدیث جمع القرآن، ۱/۱۹۹، الحدیث: ۱۷۶) 
	صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی پیروی کے جذبے کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے :
(1)… حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے کر فرمایا ’’خدا کی قسم! میں جانتا ہوں