اعمال کا ایک ایک ذرہ آدمی کے سامنے موجود ہوگا اور اس وقت برے اعمال والا تمنا کرے گاکہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئی دور دراز کی مسافت حائل ہوجائے اور کسی طرح ان اعمال سے چھٹکارا ہوجائے مگر ایسا نہ ہوسکے گا۔آیت ِ مبارکہ کے حوالے سے سلف و صالحین کے طرزِ عمل کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ذیل کے واقعات کا مطالعہ فرمائیں :
عمر اور گناہوں کا حساب کرنے والے بزرگ:
حضرت توبہ بن صمہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے نفس کامحاسبہ کرتے ہوئے ایک دن حساب لگایا تو ان کی عمر 60 سال تھی، دنوں کا حساب کیا تو وہ 21500تھے، انہوں نے چیخ ماری اور فرمایا: ہائے افسوس! (اگر میں نے روزانہ ایک گناہ کیا ہو تو) میں حقیقی بادشاہ سے 21500گناہوں کے ساتھ ملاقات کروں گا اور جب روزانہ 10,000گناہ ہوں ، تو کیا صورت حال ہو گی یہ سوچ کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ غش کھا کر گر پڑے اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔(احیاء العلوم،کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، بیان حقیقۃ المحاسبۃ بعد العمل، ۵/۱۳۹)
نیند سے پاک رب تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے:
ایک شخص کسی عورت پر فریفتہ ہوگیا ۔جب وہ عورت کسی کام سے قافلے کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی تو یہ آدمی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ جب جنگل میں پہنچ کر سب لوگ سو گئے تو اس آدمی نے اس عورت سے اپنا حالِ دل بیان کیا ۔ عورت نے اس سے پوچھا:کیا سب لوگ سو گئے ہیں ؟ یہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ شاید یہ عورت بھی میری طرف مائل ہو گئی ہے، چنانچہ وہ اٹھا اور قافلے کے گرد گھوم کر جائزہ لیا تو سب لوگ سورہے تھے ۔ واپس آکر اس نے عورت کو بتایا کہ ہاں ! سب لوگ سو گئے ہیں۔ یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی :اللہ تعالیٰ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو،کیا وہ بھی اس وقت سو رہا ہے؟مرد نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نہ سوتا ہے ،نہ اسے نیند آتی ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے ۔ عورت نے کہا :جو نہ کبھی سویا اور نہ سوئے گا اوروہ ہمیں بھی دیکھ رہاہے اگرچہ لوگ نہیں دیکھ رہے تو ہمیں اس سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات سن کر اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے خوف کے سبب اس عورت کو چھوڑ دیا اور گناہ کے ارادے سے باز آگیا۔ جب اس شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا ’’مَافَعَلَ اللہُ بِکَ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ