مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیۡرٍ مُّحْضَرًا ۚۖۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنۡ سُوۡٓءٍۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیۡنَہَا وَبَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بـَعِیۡدًا ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ؕ وَاللہُ رَءُوۡفٌۢ بِالْعِبَادِ﴿۳۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے ۔جس دن ہر جان نے جو بھلا کام کیا حاضری پائے گی اور جو برا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتاہے، اور اللہ بندوں پر مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرمادو کہ تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اوروہ ہر شے پر قدرت رکھنے والاہے۔(یاد کرو) جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا تو تمنا کرے گاکہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئی دور دراز کی مسافت (حائل) ہوجائے اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑامہربان ہے۔
{یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ: جس دن ہر شخص پائے گا۔} سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 29،30ہر شخص کی اصلاح کیلئے کافی ہے۔ اس آیت پر جتنا زیادہ غور کریں گے اتنا ہی دل میں خوفِ خدا پیدا ہوگا اور گناہوں سے نفرت پیدا ہوگی۔ چنانچہ فرمایا کہ تم فرمادو کہ اگر تم اپنے دل کی باتیں چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو سب معلوم ہے۔ تمہارے دلوں کا ایمان و نفاق، قلوب کی طہارت و خباثت، اچھے برے خیالات، نیک و بد ارادے، صحیح و فاسد منصوبے ساری دنیا سے چھپ سکتے ہیں مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ عالِم ُا لغَیب و الشَّہادۃ کے حضور سب ظاہر ہے۔ وہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب جانتا ہے ۔ وہ تمہیں فرماتا ہے کہ تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو سب معلوم ہے اور اس دن کو یاد رکھو جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا۔ خَلْوَتوں ، جَلْوَتوں میں کئے ہوئے اعمال، پہاڑوں ، سمندروں ، غاروں ، صحراؤں ، جزیروں اور کائنات کے کسی بھی کونے میں کئے گئے