قدرت کا ایسا ظہور ہوا کہ آج ان کے نام و نشان مٹ گئے۔ یونان کا سکندرِ اعظم، عراق کا نمرود، ایران کا کسریٰ ونوشیرواں ، ضحاک، فریدوں ، جمشید، مصر کے فرعون، منگول نسل کے چنگیز اور ہلاکو خان بڑے بڑے نامور حکمران اب صرف قصے کہانیوں میں رہ گئے اور باقی ہے تو ربُّ العالَمین کا نام اور حکومت باقی ہے اور اسی کو بقا ہے۔ یونہی عزت و ذلت دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ دور دراز کے گاؤں ، بستیوں سے ، چھوٹے اور غریب خاندانوں سے اٹھا کرتخت ِ حکومت پر بٹھا دینا، غلاموں کو بادشاہت عطا کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اور معاشرے کے معزز ترین بلکہ دوسروں کو عزتیں اور خلعتیں بخشنے والوں کو ذلت و گمنامی کے عمیق گڑھوں میں پھینک دینا اُسی اَحکَم ُالحاکمین مولیٰ تعالیٰ کی قدرت ہے۔
تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَتُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ۫ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ۫ وَتَرْزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ﴿۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو رات کا حصّہدن میں ڈالے اوردن کا حصہ رات میں ڈالے اور مردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے اور جسے چاہے بے گنتی دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو رات کا کچھ حصہ دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کا کچھ حصہ رات میں داخل کردیتا ہے اور تو مردہ سے زندہ کونکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے شمار رزق عطا فرماتا ہے۔
{تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ: تو رات کا کچھ حصہ دن میں داخل کردیتا ہے۔} گرمیوں میں رات چھوٹی اور دن بڑے کردینا، سردیوں میں دن چھوٹے اور رات لمبی کردینا اللہ تعالیٰ ہی کے نظام کی وجہ سے ہے۔ جس کے قبضہ قدرت میں اتنا بڑا نظام ہے اس کیلئے فارس و روم سے ملک لے کر غلامانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو عطا کردینا کیا بعید ہے۔
{وَتُخْرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ: اورتو مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے۔} مردہ سے زندہ کا نکالنایوں ہے جیسے زندہ انسان کو بے جان نطفے سے اور پرندے کے زندہ بچے کو بے روح انڈے سے اور زندہ دل مؤمن کو مردہ دل کافر سے۔ یونہی زندہ سے مردہ نکالنا اس طرح جیسے کہ زندہ انسان سے بے جان نطفہ اور زندہ پرندے سے بے جان انڈا اور زندہ دل ایمان دار سے مردہ دل کافر۔