Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
453 - 520
{فَکَیۡفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ:تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے۔} یہاں من گھڑت امیدوں کی سواری پر بیٹھ کر خیالات کی دنیا میں سیاحت کرنے والوں کی بات ہورہی ہے جو عقیدۂ صحیحہ سے لاتعلق اور اعمالِ صالحہ سے دور ہونے کے باوجود خواب و خیال میں اپنے آپ کو جنت کے بلند و بالا محلات میں قیام پذیر سمجھتے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ قیامت کے دن ان لوگوں کی کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں جمع کریں گے اور جب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ 
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ۫ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُؕ بِیَدِکَ الْخَیۡرُؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: یوں عرض کر اے اللہ ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یوں عرض کرو، اے اللہ!مُلک کے مالک! تو جسے چاہتاہے سلطنت عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے اور توجسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ،تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھنے والاہے۔
{قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ: یوں عرض کرو، اے اللہ! مُلک کے مالک!  }فتحِ مکہ کے وقت سیدُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی امت کوایران و روم کی سلطنت کی بشارت دی کہ یہ مسلمانوں کے ہاتھ آئے گی۔ اس پر یہود و منافقین کو بڑا تعجب ہوا اور کہنے لگے، کہاں محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور کہاں فارس و روم کے ملک؟ یہ تو بڑے زبردست اور نہایت محفوظ ملک ہیں اس پر یہ آیت ِ کریمہنازل ہوئی اور آخر کار حضورِاکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا وہ وعدہ پورا ہوکر رہا۔ ( خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱/۲۴۰)
	 سلطنت و حکومت بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی ملک ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ کتنی بڑی بڑی سلطنتیں گزریں جن کے زمانے میں کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ یہ بھی کبھی فنا ہوں گی لیکن اللہ، مالکُ الملک کی زبردست قوت و